اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق طالبان اور القاعدہ کے دہشت گردوں نے دو دن قبل شلوزان کی پہاڑیوں میں واقع شیعہ گاؤں "خیوص" پر حملہ کرکے اسے ۔ تین اطراف سی گھیر لینے کے بعد ۔ قبضی میں لیا اور ممکنہ حد تک لوٹ مار کرنے کے بعد اسے نذر آتش کیا۔اطلاعات کے مطابق اس حملے کی دوران تقریباً 50 شیعہ مدافعین گاؤں کا دفاع کررہے تھے جن میں سے تقریبا 25 افراد شہید ہوگئے تھے اور ان کی میتیں مقبوضہ گاؤں کے احاطے میں تھیں جنہیں نکالنے کے لئے پرسوں رات شیعہ مدافعین نے محدود کاروائی کرکے چار زخمیوں اور 4 میتوں کو باہر نکالا جن میں غدیر حسین نامی ایک کمانڈر کی میت بھی شامل تھے جن کا جنازہ کل پاراچنار کی مرکزی امامبارگاہ سے اٹھایا گیا اور طوری قبرستان کی جانب لے جایا گیا۔ جنازے کے جلوس میں ہزاروں لوگ شریک تھے۔علماء اور عمائدین نے جنازے کی تدفین کے وقت حاضرین سے خطاب کیا اور علاقے میں امن و امان کے تحفظ کے لئے اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا چنانچہ شیعہ نوجوانوں نے شہید غدیر حسین کے جنازے پر عہد کیا کہ خیوص سمیت دسیوں برسوں سے بیرونی قبائل کے ہاتھوں غصب شدہ کوہستانی علاقے کو آزاد کروا کر ہی دم لیں گے اور خیوص کو بھی آزاد کرکے شہیدوں کی میتیں باہر نکالیں گے؛ چنانچہ کل رات جب ہزاروں نوجوانوں نے "یا علی (ع)" کا نعرہ لگا کر شلوزان کے پہاڑی علاقوں میں قدم رکھا تو ان کے نعروں کی گونج نے بہادری اور دینداری کا نعرہ لگا کر انسانیت کش اقدامات میں ملوث دہشت گردوں کے دل دہلا دیئے اور خیرالدین، کابلی، خانشاہ میلہ، شاپو اور خیوص میں موجود دہشت گردوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ خیوص کو چھوڑ کر دشوار گذار پہاڑی گاؤں "نرئی" میں ٹھک سکے ہیں جبکہ دہشت گردوں کی اکثریت نے سرحد کے راستے افغانستان کی جانب فرار ہونا شروع کیا ہے تا ہم طالبان کی حمایت میں سرگرم سرکاری افواج نے شیعہ ٹھکانوں پر شدید حملے شروع کررکھے ہیں۔ کل رات کے حملوں میں آٹھ شیعہ افراد شہید ہوگئے تھے جبکہ سرکاری افواج کے ہاتھوں بھی دو افراد شہید اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔
تازه ترین اطلاعات کے مطابق مقامی انتظامیہ نے لقمانخیل کے راستے ایف سی کی وردی میں ملبوس طالبان کی بڑی نفری علاقے میں تعینات کی ہے جو غالبا حکومت اور طالبان کی جانب سے حملہ کرکے رات کے وقت آزاد شدہ علاقون پر دهاوا بولنے اور انہیں دوبارہ طالبان دہشت گردوں اور بیرونی غاصبین کے سپرد کرنے کی نیت سے بھیجی گئی ہے۔ کل رات اور آج صبح 100 کی قریب غیر ملکی دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں اور ان کے کئی افراد زندہ پکڑ لئے گئے ہیں۔ گذشتہ اٹھارہ دنوں کی لڑائی میں شہداء کی تعداد 60 کی قریب پہنچ چکی ہے تا ہم سرکاری افواج کے ظالمانہ حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔یاد رہے کہ کل رات کو بھی سرکاری افواج نے طالبان کی ابتدائی شکست کے بعد شیعہ ٹھکانوں کو توپخانے کا نشانہ بنایا مگر شیعہ عمائدین کی جانب سے سرکاری حکام سے رابطہ کرنے پر سرکاری افواج کی جارحیت بند ہوگئے تھے جو آج طالبان کی غیر متوقع شکست کے بعد بہت زیادہ شدت کے ساتھ دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔ اس سے قبل بھی حالیہ لڑائی کے دوران جب بھی دہشت گرد شیعہ مدافعین کے مقابلے میں کمزور پڑ جاتے سرکاری فورسز کے ہیلی کاپٹر دہشت گردوں کی بجائے شیعہ مدافعین کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کرتیں اور راتوں کو بھی بھاری توپخانے سے شیعہ مورچوں پر حملے کرتیں اور جب بھی سرکاری پشت پناہی کے باعث دہشت گردوں کی پوزیشن مضبوط نظر آنے لگتی سرکاری توپخانہ بھی خاموش ہوتا اور گن شپ ہیلی کاپٹر بھی بجھے رہتے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف لڑائی کے بہانے جو ہیلی کاپٹر حکومت پاکستان نے بیرونی ممالک سے حاصل کئے ہیں وہ مرکزی حکومت کے اطاعت گزار اور دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار پاکستانی عوام کو نشانہ بنارہے ہیں لیکن نہ تو سننے والا کان ہے نہ ہی دیکھنے والی آنکھ، اور بلند و بالا پہاڑوں میں رہنے والے شیعہ قبائل کی فریاد پہاڑوں سے ٹکرا کر واپس لوٹ کر آتی ہے اور حق و حقیقت کا اظہار و انعکاس اس زمانے میں کیمیا کی مانند ناپید ہے۔
...........
اپڈیٹ:شلوزان کا پانی بیرونی غاصبون نے تکفیری ٹولوں کی تحریک پر عرصے سے بند کر رکھا تھا اور کل جب علاقہ کلئیر کرایا گیا تو نوجوانوں نے جاکر دریا مین بند تعمیر کرکے سوکھے نالوں میں پانی چلاکر شلوزان کو ایک بار پھر پانی کی نعمت سے مالامال کرنے کی سعی کی تھی اور عجیب بات یہ ہے کہ فوجی ہیلی کاپٹروں نے بند تعمیر کرنے والے نوجوانوں ـ اور اس کام میں شوقیہ شرکت کرنے والے بچوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو بچوں سمیت 3 افراد شہید اور چھ زخمی ہوگئے۔ سرکار کی طرف سے اس غیر معقول اور بغاوت پر اکسانے والے عمل کا ان کو کوئی جواب نہ ملا اور شیعہ نوجوانوں نے مسلح ہونے کے باوجود ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ سے اجتناب کیا تا کہ علاقے کو مسلسل آگ اور خون میں دھکیلنے اور کرم ایجنسی کو بھی مرکزی اقتدار اعلی کے خلاف برسر پیکار علاقوں میں شامل کرنے کی اس شرارت آمیز سازش کو ناکام بنایا جاسکے۔ اور وہ اس سازش کو ناکام بنانے میں کامیاب بھی ہوئے اور شہیدوں کی میتیں لے کر شلوزان واپس چلے گئے۔دوسری طرف سے رات کی وقت پاراچنار کے محب وطن شیعیان اہل بیت (ع) نے نے علاقے کو طالبان کے بھاری ہتھیاروں سے بچانے کے لئے "نرئی" (Narayi) نامی تین دیہاتوں میں ان کے آخری ٹھکانوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو دیہات طالبان سے خالی کرائے گئے جبکہ ایک گاؤں اور سرحدی چوٹی طالبان کے قبضے میں ہے اور وہ اب بھی فائرنگ اور گولہ باری میں مصروف ہیں۔ کل اور آج تقریبا 5 شیعہ افراد ش شہید ہوگئے ہیں جبکہ طالبان دہشت گردوں کے جانی نقصانات کے بارے میں مصدقہ اطلاعات موصول نہیں ہوسکی ہیں گو کہ افغانستان کے پکتیا اور خوست صوبوں سمیت پاکستان کی بعض قبائلی ایجنسیوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شلوزان کے پہاڑی علاقے میں ہلاک ہونے والے درجنوں افراد کی لاشیں ان علاقوں مین منتقل کی جارہی ہیں۔کہا جارہا ہے کہ ان افراد کو علاقے پر قبضہ کرنے کی صورت میں شلوزان کے شیعہ دیہاتوں سمیت پاراچنار شہر میں لوٹ مار کرنے سمیت وعدہ دیا گیا تھا کہ انہیں ان علاقوں کی زرخیز زمینوں اور رہائشی علاقوں مین بھرپور حصہ دیا جائے گا مگر وہ اپنی اس آرزو کے حصول میں ناکام رہے اور اب ان کو اپنے علاقوں میں بھی دو گز سے زمین کی ضرورت نہیں ہوگی۔
........./110
- شلوزان کے علاقے میں شہداء کی تعداد 25 ہوگئی ہے / اپڈیٹ
۔۔۔۔۔۔۔
مذکورہ بالا رپورٹ سے موازنہ کرکے اپنی رائے عطا کریں
ریڈیو تہران کی رپورٹ:
ایک تجزیہ:
مختلف لنک: